‏زندگی تھی ہی نہیں، زخم کسی یاد کے تھے

‏زندگی تھی ہی نہیں، زخم کسی یاد کے تھے
‏ہم نے وہ دن بھی گزارے جو ترے بعد کے تھے

‏ہم کبھی کر نہ سکے ورنہ سخن ایسے بھی
‏جو نہ تحسین کے تھے اور نہ کسی داد کے تھے

‏اب جو ویران ہوئے ہیں تو یقیں آتا نہیں
‏ہم وہی لوگ ہیں جو قریہء آباد کے تھے

‏آخرِ کار کسی بات پہ دل ٹوٹ گیا
‏ہم بھی انسان ہی تھے کون سے فولاد کے تھے

‏جب بھی ناکام ہوا میں تو مرے کام آئے
‏وہ زمانے جو کسی عرصہء برباد کے تھے



Comments

Popular posts from this blog

I miss you