‏یہ کیسی اذیت ہے

‏یہ کیسی اذیت ہے اداسی نہیں جاتی

‏یہ کیسا بھنور ہے کہ ابھرتا ہی نہیں میں


‏پل بھر کو سمیٹا تھا ترے عشق نے مجھ کو

‏یوں ٹوٹ کے بکھرا کہ کہیں تھا ہی نہیں میں •

Comments

Popular posts from this blog

I miss you