کون بیچے گا بے بسی اپنی،،



‏جو عبادت گزار نکلے گا !

‏وہ ہوس کا شکار نکلے گا !


‏اُس کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہے

‏وہ بھی کم اعتبار نکلے گا


‏آستینوں کو جھاڑ کر دیکھو

‏ایک آدھا تو "یار" نکلے گا


‏کون بندہ رہے گا ! دیکھیں گے !

‏کون پروردگار نکلے گا !


‏کیا محبت نہیں کریں گے ہم ؟

‏کیا بدن کا غبار نکلے گا  ؟


‏دو دنوں بعد مفلسی ہو گی

‏چار روزوں میں پیار نکلے گا


‏دستکیں کوئی بھی نہیں دے گا

‏اور کوئی بار بار نکلے گا !


‏آئینہ دیکھا ہے کبھی تُو نے ؟

‏تُو مرا غم گسار نکلے گا ؟


‏کون بیچے گا بے بسی اپنی

‏کون با اختیار نکلے گا !


‏اسد منٹو

Comments

Popular posts from this blog

I miss you