‏سائے لرزتے رہتے ہیں

‏سائے لرزتے رہتے ہیں شہروں کی گلیوں میں

‏رہتے تھے انسان جہاں اب دہشت رہتی ہے

‏امجد اسلام امجد

Comments

Popular posts from this blog

I miss you