‏غم عاشقی سے کہہ دو


‏غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے،


مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے،


‏میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی،


ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے،


‏یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک 

مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے،،🥀





Comments

Popular posts from this blog

I miss you